ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایوانِ اقتدار تک اقلیتوں کے مسائل پہنچانا اصل صحافت ہے: ڈاکٹر کے رحمن خان بنگلورو میں اردو صحافت اور ریاستی سطح کے ایک روزہ سیمینار کاانعقاد

ایوانِ اقتدار تک اقلیتوں کے مسائل پہنچانا اصل صحافت ہے: ڈاکٹر کے رحمن خان بنگلورو میں اردو صحافت اور ریاستی سطح کے ایک روزہ سیمینار کاانعقاد

Mon, 25 Dec 2017 14:05:58    S.O. News Service

بنگلورو ،24؍دسمبر(ایس او نیوز )ایوان اقتدار تک اقلیتوں کے مسائل پہنچانا اصل صحافت ہے ۔ جذباتی رپورٹنگ سے پرہیز کرتے ہوئے سنجیدہ رپورٹنگ کو پیش کرنے والے صحافی کو صحافت کی دنیا تسلیم کرتی ہے ۔ ان خیالات کااظہار رکن پارلیمان وسابق مرکزی وزیر وسالار پبلی کیشنز ٹرٹسٹ کے چیرمین ڈاکٹر کے رحمن خان نے کیا ۔ درالسلام ہال میں کرناٹکا اردو رپورٹر س فورم اور کرناٹک اردو اکیڈمی کے اشتراک سے منعقدہ اردو صحافت پرریاستی سیمینار کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ دستور میں صحافت کو چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے ۔ جس کی بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ اس ذمہ داری کو فریضہ سمجھ کر ادا کرنا چاہئے ۔ اردو رپورٹر وں میں تحقیقاتی رپورٹنگ کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر کے رحمن خان نے اس پرزور دیا اور کہا کہ تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعہ ہی عوامی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں اور بد عنوان افراد کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کسی کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا آئینہ ہوا کرتے ہیں۔ صحافیوں کو چاہئے کہ وہ عوام کے احساسات کو اجاگر کریں ، جمہوریت میں صحافت کو ایک اہم رول ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ صحافت فروخت ہوچکی ہے ۔ صحافی کو عوام کا ترجمان بننے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر رحمن حان نے کہا کہ اردو رپوٹر س عوام کے معاملات اجاگر کریں تاکہ معاشرہ میں بڑی تبدیلی لائی جاسکے۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ جذبات میں آئے بغیر حقائق پر مبنی خبروں کو اپنے اخبارات کی زینت بنائیں جس کی قارئین کو ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے احساسات کو اقتدار کے آگے پیش کرنے میں اپنی دلچسپی دکھائیں ۔ کسی ایک طبقہ یا فرد کو خوشنودی مناسب نہیں ۔ سب کیلئے یکساں ذہن رکھنا ضروری ہے ۔ تاکہ ہماری تنقید کا نشانہ نہ بنے ۔

محمود ایاز کی صحافتی خدمات کی توصیف کرتے ہوئے ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ محمود ایاز نے روز نامہ سالار میں مقامی خبروں اور عوامی مسائل کو منظر عام پر لانے کے مقصد سے اردو رپورٹر س کی تقرری عمل میں لائی جس کے ذریعہ ملی مسائل عوام تک پہنچانے میں روز نامہ سالار اہم کردارنبھا تا آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محمود ایاز نے اردو صحافت میں انقلاب برپا کیا جس کانتیجہ ہے کہ اردو صحافت ترقی کی جانب گامزن ہے۔ڈاکٹر رحمن خان نے کہا کہ اردو اخبارات چلانا آسان نہیں ہے، اس کے باوجود اردو اخبارات برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ اخبارات کی آزادی کوبچائے رکھنا ضروری ہے ۔ آج بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیاں اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو خرید کر اخبارات کی آزادی کو ختم کررہے ہیں ،چند ایک اردو اخبارات کوبھی سرمایہ داروں نے خریدلیا ہے ۔ جس کی وجہ سے چھوٹے اخبارات کمزور ہونے لگے ہیں۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہاکہ آر ٹیکل 16,15,14 کے تحت ہی طلاق کا قانون بنا ہے ۔ آج شریعت میں برابر مداخلت ہونے لگی ہے ۔ صرف آر ٹیکل 14کی آڑ میں خواتین کو حقوق دلوائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روز نامہ سالار ایک جماعت کی طرح ملت کاترجمان بن کر اپنا کردار نبھاتا آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اخبار سالار کبھی بھی تجارتی نقطۂ نظر کا حامل نہیں رہا ۔ اس کی توجہ ملت کے احساسات پر مرکوز رہی اس کانتیجہ ہے کہ سالار مسلسل 52سال سے عوام کے ترجمانکے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سالار نے ہمیشہ جدت پسندی کو ترجیح دی اور آج سالار ملک کے بڑے اخبارات کی صف میں شامل ہے ۔ ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ وقف املاک اللہ کی امانت ہے ، ریاست میں کانگریس حکومت کے باوجود اوقافی معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے ۔ آج ریاست میں وقف بورڈ نام کی کوئی چیز نہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تک اس پر کسی بھی صحافی نے اپنا قلم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے انہوں نے وزیر اعلیٰ کو کئی مرتبہ مکتوب روانہ کئے۔ اس کے باوجود وقف بورڈ انتخابات نہیں ہوپائے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ وقف قانون بنانے کیلئے کیا 3سال چاہئے ۔ انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے معاملات پر اپنا قلم اٹھائیں ان معاملات کو اجاگر کریں اور عوام تک پہنچانے میں اپنی دلچسپی دکھائیں۔ قوم وملت کے مسائل کو پیش کرتے ہوئے اس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ سیمینار میں اضلاع سے آئے رپورٹرس کی تعداد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کرناٹکا اردو اکیڈمی اور اردو رپورٹرس فورم کو مشورہ دیا کہ اس طرح وقتاً فوقتاً سیمینار کا انعقاد کرتے رہیں۔روز نامہ پاسبان کے مدیر اعلیٰ محمد عبید اللہ شریف نے اکیڈمی اور فورم کے ذمہ داران سے کہا کہ وہ اس طرح ہر ماہ صحافیوں کو جوڑ کر صحافت سے جڑے مسائل کے ساتھ ملت کے مسائل پر بھی غور وفکر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اردو اخبارات میں با صلاحیت صحافی موجود ہیں ۔ اردو اکیڈمی فنڈ 10کروڑ روپئے کرنا چاہئے ۔ انہوں نے اردو کی خستہ حالت کے لئے خود اردو اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔اپنے صدارتی خطاب میں کرناٹک اردو اکیڈمی کے چےئرمین سید قدیر ناظم سرگروہ نے کہا کہ اردو صحافیوں پر بڑی ذمہ داری ہے وہ عوام کے مسائل کو حکومت کے آگے پیش کریں۔ شخصیت پرست نہ بنیں ، اس سیمینار کوکامیاب قرار دیتے ہوئے اردو اکیڈمی چیرمین نے کہا کہ صحافت پر ورکشاپ اور سیمینار کے لئے آئندہ بھی اکیڈمی بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کیلئے اچھے مقالہ نگاروں کا انتخاب کیا گیا ،جنہوں نے بہتر مقالہ پیش کئے۔اس موقع پر ڈاکٹرکے رحمن خان کے ہاتھوں کرناٹک اردو رپورٹرس فورم کی ڈائری کااجراء اور وطن ایپ چینل کاافتتاح عمل میں لایا گیا۔ اس چینل کے مدیر سید تنویر احمد ہیں۔ اردو اکیڈمی کے چےئرمین سید قدیر ناظم سرگروہ کی صدارت میں محمد اعظم شاہد نے ’’رپورٹنگ اور عصری تقاضے‘‘ ،افتخار احمد شریف نے ’’رپورٹنگ کیلئے اہم نکات‘‘ سید تنویر احمد نے ’’اردو صحافت اور دور حاضر کے چیلنجز‘‘ پر اور ای ٹی وی اردو حیدر آباد کے خالد ملا نے ’’اردو صحافت نئے محاذ اورامکانات‘‘ کے عنوان پر مقالے پیش کئے۔قبل ازیں حافظ ارشاد احمد کی تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ ندیم فاروقی نے بارگاہ رسالت ؐ میں نعت پاک پیش کی ۔ فورم کے سکریٹری عبدالخالق نے تمام کاخیر مقدم کیا جبکہ فورم کے صدر صدیق آلدوری نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ نظامت کے فرائض محمد اعظم شاہد نے انجام دےئے ۔ فورم کی جانب سے تمام مہمانوں ،مقالہ نگاراور شرکاء ،صحافیوں کو میمنٹو پیش کئے گئے۔


Share: